رات کو کانوں کی آواز اس لیے زیادہ لگتی ہے کہ اردگرد کا شور ختم ہو جاتا ہے، مقابلے کے لیے کوئی اور آواز نہیں رہتی، اور توجہ اندر کی طرف مڑ جاتی ہے۔ زیادہ تر لوگوں کو تین چیزوں سے فرق پڑتا ہے: ایک ہلکی، مسلسل پس منظر کی آواز جو ٹنائٹس کو پوری طرح نہ ڈھانپے، سونے کا ایک مقررہ معمول، اور بار بار فون نہ دیکھنا۔ ایپ آواز دیتی ہے؛ یہ اچھی نیند کی عادتوں یا ڈاکٹر کی دیکھ بھال کی جگہ نہیں لیتی۔
رات کو کانوں کی آواز زیادہ کیوں لگتی ہے
دن میں ٹریفک، پنکھے، باتوں اور ٹی وی کی آوازیں ٹنائٹس کو کسی حد تک چھپا دیتی ہیں۔ رات کو جب کمرہ خاموش ہوتا ہے تو کانوں کی سیٹی یا سنسناہٹ ہی واحد آواز رہ جاتی ہے، اس لیے وہ زیادہ صاف سنائی دیتی ہے، حالانکہ اس کی اصل شدت نہیں بدلی ہوتی۔
دوسری وجہ توجہ ہے۔ لیٹتے ہی ذہن کے پاس کرنے کو کچھ نہیں ہوتا، اور وہ اسی آواز کو سننے لگتا ہے۔ جتنا زیادہ آپ اسے سنتے ہیں، اتنی ہی یہ نمایاں ہوتی جاتی ہے۔
تیسری وجہ ایک چکر ہے: نیند نہ آئے تو اگلے دن پریشانی اور تھکن بڑھتی ہے، اور پریشانی میں ٹنائٹس زیادہ تنگ کرتا ہے۔ پاکستان میں 152 مریضوں پر ہونے والی ایک تحقیق میں بھی ایک تہائی سے زیادہ لوگوں میں ٹنائٹس کا روزمرہ زندگی پر اثر شدید پایا گیا (JPMA 2020)۔ اسی لیے نیند کو بہتر بنانا ٹنائٹس کے ساتھ جینے کا ایک اہم حصہ ہے۔
ٹنائٹس کے ساتھ سونے کے لیے کون سی آوازیں بہتر ہیں
| آواز | کیسی لگتی ہے | عموماً کسے پسند آتی ہے |
|---|---|---|
| وائٹ نوائز (مفت) | ہر فریکوئنسی پر برابر سرسراہٹ | تیز، باریک سیٹی والا ٹنائٹس، پہلی راتیں |
| پنک نوائز | نرم، کم چبھنے والی | جنہیں وائٹ نوائز سخت لگے |
| براؤن نوائز | گہری، جیسے دور کی گرج یا آبشار | اونچی پچ والا ٹنائٹس، کچی نیند والے |
| بارش | قدرتی، بے ترتیب | جنہیں مصنوعی شور پسند نہیں |
| سمندر کی لہریں | دھیمی، ٹھہری ہوئی لے | سونے سے پہلے، سانس کے ساتھ لے ملانا |
| پنکھا | کمرے کی جانی پہچانی گونج | جو پہلے ہی پنکھا چلا کر سوتے ہیں |
پاکستان میں بہت سے لوگ ویسے بھی چھت کا پنکھا چلا کر سوتے ہیں، اور سردیوں میں جب پنکھا بند ہوتا ہے تو کمرے کی خاموشی میں ٹنائٹس اچانک زیادہ محسوس ہونے لگتا ہے۔ ایسے میں ایپ میں پنکھے کی آواز ایک آسان متبادل ہے۔
والیوم کتنا رکھیں
اصول سادہ ہے: آواز ٹنائٹس سے ذرا دھیمی رکھیں، اسے پوری طرح نہ ڈھانپیں۔ اسے “مکسنگ پوائنٹ” کہتے ہیں، یعنی وہ مقام جہاں آپ کو اپنی کانوں کی آواز اب بھی ہلکی سی سنائی دے مگر وہ بیرونی آواز میں گھل جائے۔ وجہ یہ ہے کہ دماغ کو اس آواز کا عادی ہونے کے لیے اسے تھوڑا سا سنتے رہنا ضروری ہے؛ تیز آواز سے مکمل ڈھانپنا مشورہ نہیں کیا جاتا اور اس سے چڑچڑاہٹ بھی ہو سکتی ہے۔ معتدل والیوم سے شروع کریں اور پہلے ہفتے میں اسے آہستہ آہستہ کم کریں۔
ہیڈ فون ضروری نہیں۔ زیادہ تر لوگوں کے لیے سائیڈ ٹیبل پر رکھا فون کافی ہے۔ اگر ساتھ سونے والے کو خاموشی چاہیے تو سونے والے ہیڈ فون یا تکیے والا اسپیکر استعمال کریں۔
سلیپ ٹائمر (Premium)
اپنی مرضی کا وقت چنیں، مثلاً آدھا گھنٹہ یا ڈیڑھ گھنٹہ۔ رکنے سے پہلے آواز آہستہ آہستہ مدھم ہوتی ہے، تاکہ آواز کا اچانک بند ہونا آپ کو جگا نہ دے۔ یا آواز کو پوری رات چلنے دیں: لوپ میں کوئی وقفہ نہیں آتا اور اسکرین بند رہتی ہے۔ اگر ہیڈ فون نکل جائیں یا بلوٹوتھ کٹ جائے تو آواز رک جاتی ہے، اسپیکر پر اونچی آواز میں نہیں بجتی۔
سات راتوں کا آسان معمول
- ہر رات ایک ہی آواز چنیں، تاکہ دماغ اسے سونے کا اشارہ سمجھنے لگے۔
- والیوم ٹنائٹس سے ذرا کم رکھیں۔
- ٹائمر لگائیں یا آواز پوری رات چلنے دیں۔
- فون الٹا رکھ دیں، اسکرین بند۔
- اگر رات کو تین بجے آنکھ کھل جائے تو خاموشی میں لیٹے رہنے کے بجائے آواز دوبارہ چلا دیں۔
پہلی راتیں عموماً چند دنوں میں کچھ آسان لگنے لگتی ہیں، جبکہ دماغ کو اس آواز کا عادی ہونے میں ہفتوں سے مہینوں تک لگ سکتے ہیں۔ ہر شخص کا تجربہ الگ ہوتا ہے۔ ایپ مفت ڈاؤن لوڈ کریں اور آج رات وائٹ نوائز سے شروع کریں۔
عام سوالات
رات کو میرے کانوں کی آواز زیادہ کیوں ہو جاتی ہے؟
آواز عموماً بدلتی نہیں، اردگرد کی خاموشی بدلتی ہے۔ رات کو مقابلے کے لیے کوئی دوسری آواز نہیں ہوتی اور توجہ کانوں کی آواز پر چلی جاتی ہے۔ تھکن اور پریشانی اسے اور نمایاں کر دیتی ہیں۔
کیا وائٹ نوائز ٹنائٹس کے ساتھ سونے میں مدد کرتا ہے؟
بہت سے لوگوں کو اس سے فرق پڑتا ہے، کیونکہ یہ خاموشی کو بھر دیتا ہے اور کانوں کی آواز کم نمایاں لگتی ہے۔ تحقیق ابھی محدود ہے اور نتائج ہر شخص میں الگ ہوتے ہیں۔ Tinnitus Relief App میں وائٹ نوائز مفت ہے۔
کیا پوری رات آواز چلانا محفوظ ہے؟
معتدل والیوم پر عام طور پر ہاں۔ آواز ٹنائٹس سے ذرا کم رکھیں۔ اگر کان میں درد ہو یا تکلیف محسوس ہو تو آواز بند کر دیں اور ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
ٹنائٹس کے لیے پنک نوائز بہتر ہے یا وائٹ نوائز؟
کوئی ایک جواب سب کے لیے درست نہیں۔ وائٹ نوائز تیز سیٹی والے ٹنائٹس کو اچھی طرح ڈھانپتا ہے، پنک نوائز نرم ہے اور جنہیں وائٹ نوائز سخت لگے وہ اسے پسند کرتے ہیں۔ دونوں کو چند راتیں آزما کر دیکھیں۔
کیا ٹنائٹس کے ساتھ سونے کے لیے ہیڈ فون ضروری ہیں؟
نہیں۔ سائیڈ ٹیبل پر رکھا فون اکثر کافی ہوتا ہے۔ ہیڈ فون صرف اس وقت فائدہ دیتے ہیں جب ساتھ سونے والے کو خاموشی چاہیے، اور ایسے میں نرم سونے والے ہیڈ فون بہتر رہتے ہیں۔
کیا اسکرین بند ہونے پر بھی ایپ چلتی رہتی ہے؟
جی ہاں، اور یہ مفت ہے۔ آواز صرف فون کال آنے پر رکتی ہے اور کال ختم ہونے کے بعد خود بخود دوبارہ شروع ہو جاتی ہے۔
یہ ایپ طبی آلہ نہیں۔ اگر کانوں میں آواز اچانک شروع ہوئی ہو، صرف ایک کان میں ہو، دل کی دھڑکن کے ساتھ دھڑکتی ہو، یا اس کے ساتھ سننے میں کمی، چکر یا کان میں درد ہو تو ای این ٹی ڈاکٹر یا آڈیالوجسٹ کو جلد دکھائیں۔ اگر نیند کی کمی ہفتوں تک رہے تو بھی ڈاکٹر سے بات کریں۔
حوالہ جات
- Zubair et al.، Journal of the Pakistan Medical Association، 2020: https://archive.jpma.org.pk/article-details/10355
- NIDCD، Tinnitus: https://www.nidcd.nih.gov/health/tinnitus
- Sereda M et al.، Cochrane review 2018، Sound therapy for tinnitus: https://doi.org/10.1002/14651858.CD013094.pub2
- Tunkel DE et al.، AAO-HNS Clinical Practice Guideline: Tinnitus، 2014: https://pubmed.ncbi.nlm.nih.gov/25273878

